دھنی کے لوک ناچ - انور بیگ اعوان

8:25 AM


لوک ناچ بھی لوک گیتوں کی ایک قسم ہے جس میں فرق صرف اتنا ہے کہ لوک ناچوں میں کچھ عملی اقدام ہوتے ہیں اور جسم کو حرکت دی جاتی ہے۔جب انسان نے اول اول اپنے آپ کو پہچانا تو کائنات میں سب سے پہلے اسے زندگی اور موت ، محبت اور نفرت، بہار اور خزاں کے نشیب و فراز نے متاثر کیا اور جب اس کو تفکر ذہن کی حدوں میں نہ سما سکا تو اس نے رقص کی صورت اختیار کر لی۔ رقص انسان کا اولین ذریعہ اظہار ہے اور ہر ملک کے لوک ناچ انسان کے اولین رقص کی شاخیں ہیں۔ جنہوں نے زمانہ کی ہزاروں گردشوں میں پسنے کہ باوجود اپنا وہ بے ساختہ پن وہ سادگی ، وہ سچائی اور وہ نکھار نہیں کھویا جو فن کے فطری رحجانات کا اثاثہ ہیں۔
لوک ناچ سے دنیا کا کوئی ملک محروم نہیں۔ جاوا ، سماٹرا اور بالی کے لوک ناچ تمام دنیا میں مشہور ہیں۔ سابقہ پنجاب کو بھی یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں کے لوک ناچ ہندوؤں ، مسلمانوں اور سکھوں کی مشترک میراث ہیں۔ پانچ دریا ؤں کی سرزمین میں جتنے لوک ناچ مروج و مقبول ہیں وہ سب مغربی پنجاب میں ہی پیدا ہوئے اور یہاں پروان چڑھے۔ قومی تعمیرِ نو کے لیے ان سے بڑی مدد لی جا سکتی ہے بشرطیکہ ہمارے ادیب ، شاعر اور حکومت اس طرف مل کر توجہ دیں۔ اس علاقے میں دو ہی لوک ناچ مقبول ہیں ایک بھنگڑا اور دوسری لڈی ۔

بھنگڑا

ڈاکٹر عبد السلام اس ناچ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ناچ ان بھلے دنوں کی یادگار ہے جب مشینون کا رواج نہ تھا ، جب بنیے نے جنم نہ لیا تھا۔ جب ساہو کار پیدا نہ ہوا تھا اور وہ نظام بھی نہ آیا تھا جس نے اناج کا تخت و تاج چھینا اور اسے تانبے کے سر رکھ دیا۔ ان دنوں گندم ہی رانی تھی اور زندگی کی ساری خوشیاں اسی سے وابستہ تھیں۔جب فصل پکنے کا قت آتا کسان کو پھولے ہوئے کھیتوں کی آذاد فضا اور گندم کی لہلاتی ہوئی اور پکی ہوئی پیلی ڈالیاں مجبور کرتیں کہ ناچو اور خوب ناچو کہ دھرتی سونا اگل رہی ہے۔ یہ خوشی کہ دن ہیں ، جانے کب بیت جائیں کہ ویلا تو ہے ہی "جھٹ دا میلہ"فصل کاٹنے کے موسم میں جب جوانوں میں فصل کاٹنے کا مقابلہ ہوتا ہے تو کامیابی پر خوشی منانے کے لیے یہ ناچ ناچا جاتا ہے۔ چند نوجوان ڈھول بجانے والے کے ارد گرد حلقہ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک آدمی کوئی سر یا ڈھول گاتا ہے ، سُر ختم ہونے پر آخری لفظ کو لمبا کر کے کُوک لگاتا ہے اور ڈھول کے سامنے ٹانگ اٹھا کر اور دونوں بازو اوپر پھیلا کر ایک ٹانگ پر ناچتا ہے ۔سب مل کر ساتھ ساتھ یہ گیت گاتے ہیں:۔
توں صدقے کہ میں صدقے                           چٹی پگ دے وچ سوہا پھل لٹکے
بار بار اسی کو دھراتے جاتے ہیں اور ڈھول کی گت پر دائرے میں تالیاں پیٹ پیٹ کر چکر کاٹتے جاتے ہیں۔ آخر ڈھول کی گت تیز ہو جاتی ہے اور ناچنے والوں کی حرکات و سکنات میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔ با لآخر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر نعرہ مار کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یوں بھنگڑا مکمل ہو جاتا ہے۔اگر کسی پہلوان یا مقابل کی تضحیک مطلوب ہو تو پھر منہ میں انگلیاں ڈال کر سیٹیاں بجائی جاتی ہیں اور ان سیٹیوں کی سُر ڈھول کی تال کا عین بین ساتھ دیتی ہے۔اس وقت اسے بھنگڑہ کی بجائے چوہا مارنا کہا جاتا ہے۔

لڈی

لڈی ایک نشیلا لوک ناچ ہے اس کے رسیئے گیت نہیں گاتے وہ صرف ناچتے ہیں۔ گھنٹوں بازوؤں کو لہراتے اور جسم کے انگ انگ کو لچکاتے مستی اور بے خودی کی حد تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔لڈی خوشی اور کامرانی کا گیت ہے ۔ ڈھول کے ارد گرد نوجوان مرد اور عورتیں حلقہ باندھ کر ناچتے ہیں اور چکر کاٹتے ہیں۔ اس میں پاؤں کی حرکت زیادہ ہوتی ہے اور لہک لہک کر ایسے اشارے کرتے ہیں کہ گویا ڈھول کو چھونا چاہتے ہیں ۔ یہ منظر بڑا دلکش ، جوش انگیز اور جاذبِ نظر ہوتا ہے۔ ناچنے والے تو ایک طرف رہے دیکھنے والے بھی ناچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔علاقہ دھنی میں عموماً یہ ناچ بیاہ شادیوں کے موقع پر پیش کیا جاتا ہے۔
تحریر : انور بیگ اعوان  انتخاب : صائمہ مظفر گوندل

1 تبصرہ جات:

تبصرہ کیجیے